Tuesday, August 21, 2012

اور قضا آچکی تھی

"!اس نے کفر کیا ہے"
کف اڑاتے مولوی نے فتویٰ دے دیا۔
یہ سنتے ہی بے قابو ہجوم پریشان کھڑے شخص پر پل پڑا۔
نفرت بلند آہنگ قہقہے لگانے لگی۔
جہالت آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی تھی۔
دور کھڑی انسانیت نے روتے روتے منہ چھپا لیا۔
اتنے میں قاضی بھی ہانپتا کانپتا آن پہنچا۔
لیکن تب تک قضا آ چکی تھی۔
مولوی نے مسکراتے ہوئے حلوے کی پلیٹ آگے بڑھائی اور پوچھا
"کچھ میٹھا ہو جائے؟"

Saturday, August 18, 2012

اور اسلام زندہ ہوگیا

"بابا! قمیص اٹھاؤ"
کلاشنکوف بردار شخص نے حکم دیا۔
بوڑھے شخص نے کانپتے ہاتھوں قمیص اٹھائی۔
وہاں ابھری پسلیاں تھیں، بھوک تھی، لیکن زنجیر زنی کے نشان نہ تھے۔
"ٹھیک ہے بابا، تم کلیئر ہو"
کلاشنکوف بردار شخص آگے بڑھ گیا۔
۔۔۔
"شیعہ پانی"
اسٹیشن پر کھڑے لڑکے نے صدا لگائی۔
"سنی پانی"
دوسرے کونے پر کھڑا ادھیڑ عمر شخص بھی پانی بیچ رہا تھا۔
ایک ہندو نے یہ دیکھا تو اسے غش آگیا۔

۔۔۔

"نعرہ تکبیر" 
مارنے والے نے نعرہ لگایا۔
"یاعلی"
مرنے والے کے منہ سے بےساختہ نکلا۔
اوراسلام زندہ ہوگیا

۔۔۔


"تم کافر ہو"

"نہیں تم کافر ہو"
دونوں نے بندوقیں نکال لیں۔
تڑتڑتڑتڑ
اوراسلام زندہ ہوگیا

۔۔۔

بس روکی۔ سب کی قمیصیں اتار کر دیکھا۔ جس کے جسم پر زنجیر زنی کے نشان تھے، اسے گولیوں سے بھون ڈالا۔
اسلام کی خدمت کر کے اسے بہت سکون حاصل ہوا۔
۔۔۔